21 اپریل 2026 - 23:45
مآخذ: ابنا
مزاحمت امریکہ کے سامنے ایک مضبوط دیوار 

لبنان کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے امریکی سفیر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے امریکی سفیر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد نبیہ بری نے خبردار کیا کہ اسرائیل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں بالواسطہ مذاکرات کا تجربہ موجود ہے، لیکن براہِ راست مذاکرات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں موجودہ جنگ بندی کے لیے ایک نگران کمیٹی پہلے سے موجود ہے، جو کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے بے گھر افراد سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسرائیل دوبارہ معاہدہ نہیں توڑے گا۔

لبنانی رہنما نے زور دیا کہ جب تک جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضہ جاری رہے گا، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب امریکی سفیر میشل عیسی کی جانب سے لبنانی قیادت کو قائل کرنے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اندرونی سیاسی اختلافات کے باعث براہِ راست مذاکرات کا معاملہ پیچیدگی کا شکار ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون سمیت حکومتی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جبکہ دیگر سیاسی شخصیات جیسے ولید جنبلاط بھی براہِ راست مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے بھی اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی قسم کی پسپائی قبول نہیں کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان میں جاری جنگ بندی ایک مستقل امن معاہدے کے بجائے محض ایک عارضی انتظام دکھائی دیتی ہے، جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس مسئلے پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha